پاکستان کی ایک نوجوان لڑکی ایشال فاطمہ کے ریپ اور قتل نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 18 سالہ ایشال فاطمہ تین افراد کی جانب سے اجتماعی زیادتی کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گئی۔ لڑکی 4 جون کو سیٹلائٹ ٹاؤن تھانے کے علاقے کے قریب سے لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس کے والد کے مطابق وہ فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی جو اپنی رول نمبر سلپ لینے کالج گئی تھی۔ بعد میں اسے اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہ جان کی بازی ہار گئی۔ پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔




میڈیکل رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی کی کوئی علامت نہیں پائی گئی۔ پولیس کی جانب سے رپورٹ کے نتائج کو منظر عام پر لایا گیا ہے جب کہ موت کی اصل وجہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہوگی۔ پولیس ان چاروں ملزمان سے تفتیش کر رہی ہے جنہیں ایشال فاطمہ کی موت کے فوراً بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا تھا۔
عشال فاطمہ کی میڈیکل رپورٹ نے سوالات اٹھا دیے ہیں، بہت سے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹس میں ردوبدل کیا گیا کیونکہ ملزمان بااثر ہیں۔ بہت سے لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پنجاب میں تعلیمی ادارے منشیات کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکے ہیں اور حکام کو اس معاملے کی بھی تحقیقات کرنی چاہیے۔ دوسرے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر اجتماعی عصمت دری کے کوئی آثار نہیں ہیں تو لڑکوں نے لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کر کے چار دن تک کیوں رکھا۔ یہاں تبصرے پڑھیں:
























